ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / عوام کااعتمادالیکٹرانک میڈیا سے اٹھتاجارہاہے، مولانا ا نظر شاہ سے ملاقات کے دوران مولانا ارشد مدنی کا اظہار خیال

عوام کااعتمادالیکٹرانک میڈیا سے اٹھتاجارہاہے، مولانا ا نظر شاہ سے ملاقات کے دوران مولانا ارشد مدنی کا اظہار خیال

Mon, 23 Oct 2017 21:54:15    S.O. News Service

نئی دہلی،23؍ اکتوبر(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) ’’ ہندوستان کے مسلمان نہ تو دہشت گرد ہیں اور نہ ہی دہشت گردوں کے حامی یہ بات اب خود ملک کی عدالتوں میں ثابت ہو رہی ہے۔ ہمیں اپنے نظام عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے اور تمام تر سازشوں کے باوجود عدالتیں انصاف دے رہی ہیں۔ معروف عالم دین مولانا انظر شاہ کا دہشت گردی کے الزام سے با عزت بری کرنے کا عدلیہ کا حالیہ فیصلہ اس کا تازہ ثبوت ہے‘‘۔ یہ بات آج جمیعۃ علما ہندکے صدر مولانا ارشد مدنی نے جمیعۃ علمائے ہند کے صدر دفتر مسجد عبدالنبی میں مولانا انظر شاہ سے ملا قات کے دوران کہی۔ مولانا انظرشاہ اپنی رہائی کے بعد آج خود کو قانونی امداد فراہم کرانے کے لیے جمیعۃ علما ئے ہنداور بالخصوص مولانا ارشد مدنی کا شکریہ ادا کرنے یہاں آئے تھے۔مولانا مدنی نے مزید کہا کہ ملک کا الیکٹرانک میڈیا جانبدارانہ کردار اداکررہا ہے۔جب بھی کسی بے قصور مسلمان کو دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے تو الیکٹرانک میڈیا پوری شدت سے اس شخص کو دہشت گرد ثابت کرنے پر تل جاتا ہے لیکن جب وہی شخص عدالت سے بے قصور ثابت ہو جاتا ہے تو وہ اس کی خبر دینا بھی ضروری نہیں سمجھتا۔ اس سے الیکٹرانک میڈیا کی نیت اور بدنیتی دونوں کوہی سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ انظر شاہ کی گرفتاری پر آسمان سر پر اٹھا لینے والا الیکٹرانک میڈیا عدالت سے ان کی رہائی کے بعد کیو ں خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ا س رویہ کی وجہ سے اب میڈیا عوام کا اعتماد کھوتاجا رہا ہے۔مولانا مدنی نے امید ظاہر کی کہ ابھی جن لوگوں کے خلاف دہشت گردی کے معاملے زیر غور ہیں وہ زیادہ تر فرضی ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان شاء اللہ ہم وہ تمام مقدمات جیتیں گے۔ مولانا مدنی نے مولانا انظر شاہ سے ملاقات کے دوران بتایا کہ جمیعۃ علما ہند کا لیگل سیل کس دلجوئی کے ساتھ جیلوں میں بند بے قصور لوگو ں کی رہائی کے لیے کام کر رہا ہے۔اس موقع پر مولانا انظر شاہ نے انہیں قانونی امداد پہنچانے اور باعزت بری کرانے میں اہم رول ادا کرنے کے لئے جمیعۃعلماکے صدرمولانا سید ارشد مدنی اور لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی کا شکریہ ادا کیا۔واضح ہو کہ پٹیالہ ہاؤس عدالت نے گذشتہ ہفتہ مولانا انظرشاہ کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے سے متعلق مقدمہ کو ڈسچارج کر دیا تھا اور اپنے فیصلے میں عدالت نے واضح کر دیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم اپنے اس الزام کو ثابت نہیں کرسکی کہ مولانا انظر شاہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ عدالت نے ان کی تقریروں کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ پایا کہ ان کی تقریروں میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو نوجوانوں کو القاعدہ سے جڑنے کی ترغیب دینے والا یا اکسانے والا ہو۔


Share: